تميمة الأعمال - تعویز کا کاروبار

کرتے ہیں جو لوگ تعویزوں کا کاروبار

بن جاتے ہیں وہ لوگ جہنم کے سوار

اللہ سے مقابلے کا ہوگا کیا انجام ؟

پہلے تو ہو جائیگا جگ میں تو بدنام

کڑے چھلّے تانت تعویز دھاگے

کبھی نہیں اس سے نصیب جاگے

یہ کاروبار ہے تباہی اور رسوائی

حدیث اور قرآن میں موجود ہے گواہی

لوگوں کو دیگا تعویز محبت کے واسطے

تیرے لیے کھل جائے گے جھگڑوں کے راستے

تیلیوں پہ دم کر کے دینا تم ضرور

تیرے اندر ہو جائیگا پیدا اک غرور

دم والی تیلیاں پہنچے گی انجام کو

زلت و رسوائی لگ جائے گی تیرے نام کو

بیوی کی وفا پر کرنا نہ شک

شرک کی اوصاف کو غور سے تک

گلاب کے پھول پر کرنا اپنا دم

تعویز کے ساتھ بڑھنا آگے دو قدم

پہنچ جائے گا تو بھی اپنے انجام تک

اللہ سے مقابلہ تو کر مت

لوگوں کو تعویز کے ساتھ کر ٹکڑے ٹکڑے

تیرے گھر کےسنے گی دنیا سارے دکھڑے

نہ بنا اپنے لیے ایسا تو جہاں

جہنم کا نہ مل جائے تجھے پھر سماں

پیچھے نہ چھوڑ تو اپنی ایسی کہانی

تیری اولاد کوستی پھرے ساتھ تیری زنانی

تعویزات کاروبار ہے فساد کا گھر

ابھی سے چھوڑ دے ایسا تو در

آنے والے وقت کی ہے یہ رواداد

تعویز سے نہیں ہوتے  گھر ہمارے آباد

بیماریوں کی ہے لمبی چوڑی لسٹ

مل جائے گی تجھے نہ مٹنے والی فہرست

ابھی سے مانگ لے رب سے معافی
تیرے آنسوبن جائے گے تیر لیے تلافی
نہ دیکھے گا تو اپنی اولاد کا غم
نہیں تو اکھاڑ دے گا اللہ تیرے قدم

ساری یہ امانتیں ہیں سوہنے رب کی

لیتا ہے تو رسوائی کیوں سارے جگ کیحسین شاہ بخاری ہو یا سنیاسی بابا

آگیا رب ہمارا گرانے ڈھابا

ایسا وقت آنے سے پہلے پیرو

مانگو معافی رب سے سجدے میں گرو

روحانی عامل ہو یا ثاقب بنگالی

بجنے والی ہے تمھاری زلت کی تالی

 شمس الدین ہو یا داؤد علی شاہ

عذاب زلت سے ہو تم آگاہ

عون مھدی ہو یا حاجن بخاری

سن لو آگئی ہے ذلت کی سواری



No comments:

Post a Comment